| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے حضور نے ہمیں نصیحت فرمائی اور ہمارے دل نرم کردیئے حضرت سعد ابن ابی وقاص روئے اور بہت روئے ۱؎ بولے ہائے کاش میں مرجاتا تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد کیا میرے روبرو موت کی آرزو کرتے ہو یہ تین بار فرمایا ۲؎ پھر فرمایا اے سعد اگر تم جنت کے لیئے پید ا کیئے گئے ہو توجس قدر تمہاری عمر دراز ہو اور تمہارے عمل اچھے ہوں تمہارے واسطے بہتر ہے۳؎(احمد)
شرح
۱؎ صوفیاء فرماتے ہیں کہ حلق کی بات کان میں پہنچتی ہے اور دماغ کی بات دماغ میں،مگر جوبات دل سے نکلتی ہے وہ دل ہی پر پڑتی ہے،نہ معلوم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کیسے پیارے تھے جنہوں نے صحابہ کے ایمان تازہ،دماغ روشن اور دل نرم کردیئے۔اس کلام پاک میں یہ تاثیر قیامت تک رہے گی جیساتجربہ اب بھی ہورہا ہے۔ ۲؎ یعنی کیا میری زندگی میں اور میرے پاس رہ کر موت مانگتے ہوتمہیں اس وقت میری صحبتیں اور زیارتیں نصیب ہیں جو موت سے جاتی رہیں گی،اگر چہ تمہیں بعدموت بڑے درجے ملیں گے مگر وہ سارے درجے اس ایک نظر پر قربان جوتمہیں اب میسر ہیں۔کسی فقیر سے پوچھا گیا کہ مؤمن کی زندگی بہتر ہے یا موت اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں مؤمن کی حیات بہتر تھی اور سرکار کی وفات کے بعد اب موت بہتر ہے کہ اس زمانہ میں زندگی میں دیدارتھا اور اب بعدموت ہی ہوگا۔(لمعات)شعر جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے کہ یہاں مرنے پر ٹھہرا ہے نظارہ تیرا ۳؎ یعنی اگر دوزخ کے لیئے پیدا کئے گئے ہو تو موت مانگنے میں کوئی فائدہ نہیں اور اگر جنت کے لیئے تمہاری پیدائش ہوئی تو موت مانگنا تمہارے لیئے مضرکیونکہ لمبی عمر میں زیادہ نیکیاں کرو گے جس سے جنت میں تمہارے درجے بڑھیں گے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اگر فرمانا بے علمی کی بناء پر نہیں،حضرت سعدعشرہ مبشرہ میں سے ہیں جن کے قطعی جنتی ہونے کی خبر خود سرکار دے چکے ہیں،ان کا جنتی ہونا ایسا ہی قطعی و یقینی ہےجیسا اﷲ کا ایک ہونا۔یہ اِنْ علت بیان کرنے کے لیئے ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَنۡتُمُ الۡاَعْلَوْنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ"۔نہ صحابہ کا ایمان مشکوک،نہ خدا ان کے ایمان سے بےخبر،معنے یہ ہیں کہ چونکہ تم جنت کے لیئے پیدا کیے جاچکے ہو لہذا تمہاری درازی عمربہتر۔(ازمرقات)