| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کی موت کی حالت میں تشریف لے گئے تو فرمایا کہ تو اپنےکو کیسا پاتاہے ۱؎ اس نے عرض کیا یارسول اﷲ میں اﷲ سے امیدکررہا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈررہا ہوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دوچیزیں بندے کے دل میں اس جیسی حالت میں جمع نہیں ہوتیں مگر اﷲ اسے اس کی امید دیتاہے اور ڈراؤنی چیزسے امن دیتاہے ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی تیرے دل کا کیا حال ہے خوش ہے یا غمگین،مطمئن ہے یا پریشان،آس میں ہے کہ یاس میں،اسے ڈر ہے یا امید۔خیال رہے کہ امتی کی وفات کے وقت اب بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہیں،اسے کلمہ سکھاتے ہیں جیسا کہ باربار دیکھا گیا ہے۔ ۲؎ یعنی بوقت موت مؤمن کا حال ڈوبتے ہوئے کی طرح چاہئیے جسے ایک موت نیچےکرتی ہے دوسری اوپر،گناہوں میں غورکرکے غیرت میں ڈوب جائے،رب کی رحمت میں سوچ کر تر جائے ایسے کو رب پکڑتا نہیں معافی دے دیتا ہے۔خیال رہے کہ مَوْطِن یاظرف مکان ہے یا زمان جیسے مقتلِ حسین یعنی امام حسین کی شہادت کی جگہ یا وقت،لفظ مثل زائد ہے یا مبالغہ کے لیئے۔