| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دنیاوی لذتیں ختم کرنی والی موت کا ذکر بہت کیا کرو ۱؎(ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ)
شرح
۱؎ ہرشخص کی موت اس کی دنیاوی لذتیں کھانے پینے،سونے وغیرہ کے مزے فناکردیتی ہے،ہاں مؤمن مردے کو زندوں کے ذکر اور تلاوت قرآن سے لذت آتی ہے،نیز زیارت قبرکرنے والے سے اُنس ہوتاہے،برزخی لذتیں پاتا ہے جویہاں کی لذتوں سے کہیں اعلیٰ ہیں،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ مردے کو تلاوت و ایصال ثواب وغیرہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتاکیونکہ یہاں لذتوں سےجسمانی لذتیں مراد ہیں نہ کہ روحانی اوریہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔علماءفرماتے ہیں اور جو روزانہ موت کو یادکرلیاکرے اس کے لیئے درجۂ شہادت ہے۔