Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
830 - 993
الفصل الثاني

دوسری فصل
حدیث نمبر830
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ قیامت میں اﷲ مسلمانوں سے پہلے کیا فرمائے گا اورمسلمان پہلے کیا عرض کریں گے ۱؎ ہم نے کہا حضورصلی اللہ علیہ وسلم ضرور فرمایاجائے فرمایا اﷲ تعالٰی مسلمانوں سے فرمائے گا کیا تم مجھ سے ملنا چاہتے ہوعرض کریں گے ہاں یا رب،فرمائے گا کیوں؟عرض کریں گے کہ ہم تیری معافی اورمغفرت کی آس لگاتے تھے۲؎ تب فرمائے گا کہ تمہارے لیئے میری بخشش واجب ہوگئی۳؎ شرح سنہ و ابونعیم(حلیہ)
شرح
۱؎ اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم بھی ثابت ہوا اور امت پر رحمت بھی۔امتحان کے پرچے چھپائے جاتے ہیں اگر امتحان سے پہلے پرچہ ظاہر ہوجائے تو ردکردیاجاتاہے مگر اس پیارے نبی نے امتحان قبر کے پرچے بھی ظاہرکردیئے اور حشر کے دن رب سے ہم کلامی کا پرچہ بھی ظاہر فرمادیا۔مطلب یہ ہے کہ قبر میں منکرنکیر تم سے فلاں فلاں سوال کریں گے تم یہ جواب دے دینا اور حشر میں رب تم سے یہ فرمائے گا تم یہ جواب دینا،یہ گفتگو صورۃً خبر ہے معنًی امر۔یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم کہ قبر و حشر کے پرچوں سے خبردار ہیں اور یہ ہے سرکار کی رحمت اپنی امت کے ایسےغمخوار ہیں۔

۲؎ ملنے سے مراد آخرت کی حاضری ہے یا دیدار الٰہی ،امید وار مجرم حاکم سے ملنا چاہتا ہے اور ناامید بھاگنا چاہتا ہے۔

۳؎ یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ میں اپنے بندے کے گمانوں کے پاس ہوتاہوں۔خیال رہے کہ بندے کا رب کی لقاچاہنا اس کی علامت ہے کہ رب بھی اس سے ملناچاہتاہے۔بندہ لینے پرحریص ہے،رب دینے کاعادی۔
Flag Counter