روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتادوں کہ قیامت میں اﷲ مسلمانوں سے پہلے کیا فرمائے گا اورمسلمان پہلے کیا عرض کریں گے ۱؎ ہم نے کہا حضورصلی اللہ علیہ وسلم ضرور فرمایاجائے فرمایا اﷲ تعالٰی مسلمانوں سے فرمائے گا کیا تم مجھ سے ملنا چاہتے ہوعرض کریں گے ہاں یا رب،فرمائے گا کیوں؟عرض کریں گے کہ ہم تیری معافی اورمغفرت کی آس لگاتے تھے۲؎ تب فرمائے گا کہ تمہارے لیئے میری بخشش واجب ہوگئی۳؎ شرح سنہ و ابونعیم(حلیہ)
شرح
۱؎ اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم بھی ثابت ہوا اور امت پر رحمت بھی۔امتحان کے پرچے چھپائے جاتے ہیں اگر امتحان سے پہلے پرچہ ظاہر ہوجائے تو ردکردیاجاتاہے مگر اس پیارے نبی نے امتحان قبر کے پرچے بھی ظاہرکردیئے اور حشر کے دن رب سے ہم کلامی کا پرچہ بھی ظاہر فرمادیا۔مطلب یہ ہے کہ قبر میں منکرنکیر تم سے فلاں فلاں سوال کریں گے تم یہ جواب دے دینا اور حشر میں رب تم سے یہ فرمائے گا تم یہ جواب دینا،یہ گفتگو صورۃً خبر ہے معنًی امر۔یہ ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم کہ قبر و حشر کے پرچوں سے خبردار ہیں اور یہ ہے سرکار کی رحمت اپنی امت کے ایسےغمخوار ہیں۔ ۲؎ ملنے سے مراد آخرت کی حاضری ہے یا دیدار الٰہی ،امید وار مجرم حاکم سے ملنا چاہتا ہے اور ناامید بھاگنا چاہتا ہے۔ ۳؎ یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے کہ میں اپنے بندے کے گمانوں کے پاس ہوتاہوں۔خیال رہے کہ بندے کا رب کی لقاچاہنا اس کی علامت ہے کہ رب بھی اس سے ملناچاہتاہے۔بندہ لینے پرحریص ہے،رب دینے کاعادی۔