| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت یحیی ابن سعید سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو موت آئی تو دوسرا آدمی بولا اسے مبارک ہو کہ بیماری میں مبتلا ہوئے بغیر فوت ہو گیا ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پر افسوس ہے تمہیں کیاخبرکہ اگر اﷲ اسے کسی بیماری میں مبتلا کرتا تو اس کے گناہ مٹا دیتا ۲؎(مالک مرسلًا)
شرح
۱؎ یہ قائل سمجھتے تھے کہ بیماریاں رب کی پکڑ ہیں اورتندرست رہنا اس کی رحمت،یہ صاحب اچانک فوت ہوگئے تھے اس لیے بطور مبارک باد یہ عرض کیا،اسی خیال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضی کا اظہار کیا۔ ۲؎ یعنی مؤمن کی بیماری خصوصًا بیماری موت بھی اﷲ کی رحمت ہے کہ اس کی برکت سے اﷲ گناہ معاف کرتا ہے،نیز بندہ توبہ وغیرہ کرکے پاک و صاف ہوجاتاہے،لہذا بیمارہوکرمرنا بہتر،اگرچہ مؤمن کے لیے ہاٹ فیل ہونا بھی رحمت ہے جیساکہ آگے آرہا ہے،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔