۱؎ اذی اورغم ہم معنی ہیں،کبھی ان دونوں میں یہ فرق کیاجاتاہے کہ اذی وہ ہے جوکسی کی طرف سے انسان کو پہنچے اورغم میں یہ قید نہیں،نیز حزن معمولی غم کو بھی کہتے ہیں اورغم سخت کو یعنی وہ غم جو انسان کو قریبًا بے ہوش کردے،بعض نے فرمایا کہ آنے والے خطرے پر تکلیف کا نام ھمہے اورگزشتہ پرغم و حزن۔خلاصۂ حدیث یہ ہے کہ صابرمسلمان کی تھوڑی تکلیف بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگرکسی کو عبادتوں میں لذت نہ آئے،اس پر اسےغم ہو یہ بھی گناہوں کی معافی کا باعث ہے،عبادات کی لذت پانے والا لذت کے لیے بھی عبادت کرتا ہے مگر اس سے محروم خالص اﷲ کیلئے۔