۱؎ حضرت جبریل خود نہ آئے تھے بلکہ رب نے بھیجا تھا،یہ مزاج پرسی رب کی طرف سے تھی،قرآن کریم فرماتا ہے:"وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ"۔اس سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت کا پتہ لگا کہ رب ان کی مزاج پرسی کرے اور رب ہی جبریل کو بھیج کر ان پر دم کرائے۔شعر
سربالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
۲؎ یہاں افسوں جادو کے معنی میں نہیں کہ فرشتے اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اس سے پاک ہے بلکہ دم جائز منتر یا اسلامی ٹوٹکا مراد ہیں۔اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ حسدونظر بدبھی بڑی آفتیں ہیں اﷲ محفوظ رکھے۔