روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوکوں کوکھلاؤ ۱؎ بیماروں کی مزاج پرسی کرو قیدی چھوڑاؤ ۲؎(بخاری)
۱؎ بھوکوں کو کھاناکھلانا سنت ہے اور بھوک سے مررہا ہو تو فرض کفایہ بلکہ کبھی فرض عین ہے۔اس بھوک میں انسان جانورسبھی داخل ہیں،بعض گنہگار پیاسے کتے کو پانی پلانے میں بخشے گئے۔(حدیث)
۲؎ یہاں قیدی سے مراد غلام یا مقروض ہے اورچھوڑانے سے مراد آزادکرانا یا قرضہ اداکرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ جومسلمان کفار کے ہاتھوں ظلمًا قید ہوگئے ہیں انہیں کوشش سے آزاد کراؤ،یہ مطلب نہیں کہ چور و بدمعاشوں کو جیل سے نکال دو تاکہ خوب چوریاں،بدمعاشیاں کریں۔