۱؎ یہاں اس آیت کی طرف اشارہ ہے "وَعِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیۡبِ لَایَعْلَمُہَاۤ اِلَّاہُوَ"۔اس آیت کی تحقیق مرآت کے شروع میں کی جاچکی ہے،نیز ہماری تفسیر "نور العرفان" میں ملا حظہ کرو۔یعنی یہ پانچ چیزیں کہ قیامت کب ہوگی،بارش کب آئے گی،عورت کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی،کہاں مرے گا،کل کیا کرے گا یہ غیب کی کنجیاں ہیں جن سے ہزارہا غیب کا پتہ چلتا ہے،یہ چیز اندازے،حساب وغیرہ کسی عقلی علم سے معلوم نہیں ہوسکتیں صرف رب تعالٰی جانتا ہے یا جسے وہ بتائے وہ جانتاہے اسی لیے انہیں مفاتیح فرمایا گیا یعنی چابیاں۔اور ظاہر ہے کہ قفل وچابی میں وہ چیزیں رکھی جاتی جسے کھول کرکسی کو دینا ہو ورنہ دفن کی جاتی ہے۔رب تعالٰی نے یہ علوم بعض فرشتوں،انبیاء،اولیاء کو بخشے۔