| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے بارش کےلیئے سادہ کپڑے زیب تن کیے عاجزی کر تے تواضع اور زاری کرتے تشریف لے گئے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی استسقاء کےلیئے دولت خانہ شریف سے نکلتے وقت یہ حال تھا کہ لباس عاجزانہ تھا،زبان پرالفاظ انکسار کے تھے یعنی متواضع دل میں خشوع خضوع تھا(متخشع)،ذکر الٰہی میں مشغول تھے،آنکھیں تر تھیں(متضرع)۔اب بھی صفت یہی ہے کہ استسقاء کےلیئے جاتے وقت امیربھی فقیرانہ لباس پہن کر جائیں کہ بھکاریوں کی وردی یہی ہے،راستہ میں یہ سارے کام کرتے ہوئے جائیں ان شاءاﷲ دعا ضرور قبول ہوگی۔