| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش برسی فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا شریف ہٹادیا تا آنکہ آپ پر کچھ بارش پڑگئی ہم نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے یہ کیوں کیا فرمایا کہ یہ ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی اپنا سر اور سینہ مبارک کھول کر کچھ قطرے ان اعضاء پرلیئے اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ یہ پانی ابھی عالَم قدس سے آیا ہے،جس میں اِس عالَم کے اجزاء ابھی تک نہیں ملے،لہذا برکت والا ہے اس سے برکت حاصل کرو۔بعض حضرات حج سے آنے والوں کے ہاتھ پاؤں چومتے ہیں اور انکے بدن سے اپنے کپڑے لگاتے ہیں،بعض صوفیاء بیماروں کےلیئے نقش لکھ کر بارش کے پانی سے دھلواکر پلواتے ہیں،ان سب کی اصل یہ حدیث ہے،بارش کے وقت اور کعبہ کو دیکھ کر دعا مانگنا سنت ہے۔