| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہےحضرت عائشہ سےحضرت ابن عباس کی مثل ام المؤمنین نے فرمایا کہ پھرسجدہ کیا تو دراز کیا پھر فارغ ہوئے جب کہ آفتاب کھل چکا تھا پھر لوگوں پر خطبہ پڑھا اﷲ کی حمدوثناکی پھرفرمایا کہ سورج اورچاند اﷲ کی نشانیوں میں سےہیں کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے نہیں گہنتے جب تم یہ دیکھو تو اﷲ سے دعا کروتکبیریں کرو نماز پڑھو،خیرات کرو ۱؎ پھر فرمایا اے محمدمصطفی کی امت رب کی قسم اللہ سے زیادہ کوئی اس پر غیرت مند نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے اے محمدمصطفی کی امت!رب کی قسم اگر تم وہ جانتے جومیں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ مضمون دونوں حدیثوں کا تقریبًا یکساں ہے،الفاظ میں کچھ فرق ہے۔یہاں خطاب مالداروں سے ہےکیونکہ گرہن کے وقت صدقہ دینے کا انہی کو حکم ہے۔ملا علی قاری نے فرمایا کہ اکثر دنیا میں عذاب مالداروں کی وجہ سے آتا ہے اور رحمتیں فقراء کی وجہ سےکیونکہ زیادہ گناہ مالدار ہی کرتے ہیں کہ وہ مال کی وجہ سے بہت گناہوں پرقادر ہوتے ہیں لہذا ہرمصیبت میں انہیں زیادہ ڈرناچاہیئے۔ ۲؎ یعنی جیسے ایک شریف آدمی کویہ گوارا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زناکرے وہ اس پر ان کوسخت سزا دیتا ہے،ایسے ہی رب تعالٰی کا غضب بندوں کے زنا پر جوش میں آتاہے۔خیال رہے کہ کفر کے بعد بدترین گناہ زنا ہےجس پرسخت عذاب آتے ہیں اسی لیے شریعت میں اس کی سزا قتل کی سزا سے بدتر ہےیعنی سنگسارکرنا،یعنی اﷲ کے عذاب اور غضب جو میرے علم و مشاہدہ میں ہیں اگر تمہارے علم و مشاہدہ میں آجاتے تو ہنسنابھول جاتے،یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا تحمل ہے کہ دونوں جہاں کو سنبھالے ہوئے ہیں،سب کچھ دیکھتے بھالتے دنیا میں بھی شاغل ہیں۔