| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں خدا تعالٰی کو اپنی بقرعید کے عشرہ کی عبادت سے زیادہ پیاری ہو اس زمانہ کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہوتاہے اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کے برابر ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے ۲؎
شرح
۱؎ یہ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں اتنے ثواب بخش دینا رب تعالٰی کےکرم سے بعیدنہیں،کیوں نہ ہو کہ ان دنوں حضرت خلیل نے اپنے فرزند کی قربانی دی تھی اور حاجی حج بھی اسی زمانہ میں کرتے ہیں،اچھوں کی نسبت سے زمان اور زمیں بھی اچھے بن جاتے ہیں۔خیال رہے کہ اس حدیث سے دسویں بقرعید خارج ہے کہ اس دن روزہ حرام ہے۔ ۲؎ کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قبول ہے،نیز بیہقی وغیرہ نے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے اسی کی مثل روایت کی،اس کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔