۱؎ اس طرح کہ کسی جگہ پندرہ روز کی نیت سےٹھہر گئے تھے،ورنہ مسافر پر قربانی واجب نہیں،یا یہ قربانی استحبابًا کی گئی،جیسے بعض حجاج اپنے اور اپنے مرحوم عزیزوں کی طرف سے مکہ معظمہ میں قربانی دے دیتے ہیں۔
۲؎ اسحاق ابن راہویہ کا یہی مذہب ہے،ان کے علاوہ باقی تمام امام اس پرمتفق ہیں کہ اونٹ کی قربانی میں بھی سات ہی آدمی شریک ہوسکتے ہیں،یہ حدیث اس گزشتہ حدیث سےمنسوخ ہے جو پہلےگزرچکی کہ گائے اور اونٹ سات سات کی طرف سے جائزہے۔(لمعات)مرقات نے فرمایا کہ عبداﷲ ابن عباس کی بعض روایات میں یوں بھی ہے کہ ہم اونٹ میں سات یادس شریک ہوئے،لہذا شک کی بنا پر یہ حدیث قابل عمل نہیں،نیز یہ حدیث حسن غریب ہے اور سات کی روایات نہایت صحیح،لہذا اس کے مقابل یہ حدیث متروک ہے۔