| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کن قربانیوں سے بچنا چاہیے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا چار سے ۱؎ لنگڑے سے جس کا لنگ ظاہرہو،کا نے سے جس کانا پن ظاہرہو۲؎ بیمار سےجس کی بیماری ظاہر ہو اور دبلے سے جو ہڈی میں سپنگ نہ رکھتا ہو۳؎(مالک،احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ یہ چار اصولی عیب ہیں جس میں بہت سے فروعی عیب شامل ہیں،لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں زیادہ عیوب کا ذکر ہے۔ ۲؎ یعنی وہ لنگڑا جانورجوقربانی گاہ تک نہ جاسکے اوروہ کانا جس کی ایک آنکھ کی روشنی بالکل جاتی رہی ہو اس سےکم لنگ اور ایک آنکھ میں معمولی پھلی وغیرہ کا ہونا مضر نہیں۔ ۳؎ مرض ظاہر ہونے کے یہ معنے ہیں کہ چارہ نہ کھائے اور سپنگ نہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ دبلے پن کی وجہ سے کھڑی نہ ہوسکے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ قربانی کے اندرونی عیب جو محسوس نہ ہو ں مضر نہیں،فقہاء فرماتے ہیں کہ دیوانہ جانور جس کی دیوانگی ظاہر ہو اس کی قربانی نہ کی جائے۔