| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا تو آپ نے خطبہ سے پہلے بغیراذان وتکبیرنماز شروع کی جب نماز پوری کرلی تو حضرت بلال پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ۱؎ اور اﷲ کی حمدوثناءکی لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں رب کی اطاعت پر رغبت دی اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے آپ کے ساتھ بلال تھے۲؎ انہیں اﷲ سے ڈرنے کا حکم دیا اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔(نسائی)
شرح
۱؎ یعنی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خطبہ پڑھا نہ لاٹھی لی،نہ تلوارکمان وغیرہ یہ بھی جائز ہے۔ ۲؎ اگر یہ واقعہ پردہ آنے سے پہلے کا ہے تو حضرت بلال بے حجاب عورتوں کے سامنے رہے اور اگر پردے کے احکام آنے کے بعد کاہے تو ظاہر یہ ہے کہ حضرت بلال اس طرح کھڑے ہوئے کہ نہ عورتوں کو آپ دیکھ سکے نہ عورتیں آپ کو۔سرکار کے عورتوں میں تشریف لے جانے کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے کہ مردوں کے وعظ میں بشارتیں زیادہ تھیں اورعورتوں کے وعظ میں ڈرانا زیادہ۔