۱؎ جن کا نام عمر ابن عوف مدنی ہے۔خیال رہے کہ کثیر ابن عبداﷲ نہایت ضعیف راوی ہیں،بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ کچھ نہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ منکر الحدیث ہے،اکثر آئمہ حدیث نے ان پرطعن کیاہے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ علاوہ تکبیرتحریمہ اورتکبیر رکوع کے۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ عید کی تکبیریں پہلی رکعت میں سات ہیں دوسری میں پانچ اور دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے ہیں،امام شافعی کا یہی مذہب ہے،ہمارے ہاں دونوں رکعتوں میں تکبیرعیدتین تین ہیں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے اور دوسری میں قرأت کے بعد،ہماری دلیل آگے آرہی ہے۔
۳؎ تعجب ہے کہ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کیسے کہہ دیا کہ کثیر ابن عبداﷲ کو تمام محدثین ضعیف کہتے ہیں۔چنانچہ ابوداؤدنے کہا یہ کذّاب ہے،امام شافعی نے فرمایا یہ جھوٹ کا ستون ہے،ابن حبان نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے،ابو حاتم نے کہا کہ یہ متین نہیں،ابن عدی نے فرمایا کہ اس کی روایتوں پرکوئی دھیان نہیں دیتا۔ظاہر یہ ہے کہ حدیث ضعیف ہے،قابلِ استدلال نہیں۔(مرقاۃ)