۱؎ یہ کَانَ یُصَلِّیْ ماضی بعید کےمعنی میں ہےکیونکہ ایک ہی ظہرحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی پڑھائی،بطن نخل مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے،فقیرنے وہاں کی زیارت کی ہے۔بعض نے کہا کہ بطن نخل نجد کے غطفان کا ایک حصہ ہے،بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ بطن نخل مدینہ منور کا ایک باغ ہے،مگرصحیح یہ ہے کہ ان تینوں مقام کا نام بطن نخل ہے لیکن یہ واقعہ طائف کے راستہ کاہے۔
۲؎ امام شافعی اس حدیث کےمتعلق فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بارفرض کی نیت کی،دوسری بارنفل کی،چونکہ ان کے ہاں نفل والے کے پیچھے فرض نماز ہوسکتی ہے اس لیے ان صحابہ کے فرض ادا ہوگئے۔احناف کہتےہیں کہ شروع اسلام میں ایک فرض نماز دوبار پڑھ لی جاتی تھی،یہ واقعہ اس وقت کاہےحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں دفعہ فرض ہی پڑھائے،امام طحاوی نے اسی جواب کو اختیارکیایا یہ واقعہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے،ہرصحابی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پوری نماز پڑھنا چاہتے تھے تب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل فرمایا۔(ازمرقاۃ)