۱؎ حدیث کی عبارت سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ دونوں کام الگ منع ہیں جو صرف اٹھائے مگر اس کی جگہ بیٹھے نہیں تو ایک گناہ کا مرتکب ہے اور جو بیٹھ بھی جائے وہ دوگنا کا۔اس حکم سے وہ صورتیں علیحدہ ہیں جہاں شرعًا اٹھانا جائز ہو۔امام اپنے مصلےٰ سے مؤذن اپنی تبکیر کی جگہ سے دوسرے کو ہٹا سکتا ہے،ایسے ہی اگر یہ جگہ پہلے سے کسی اور آدمی کی تھی وہ اپنا رومال یا پگڑی رکھ کر وضو کرنے گیا دوسرا اس کی جگہ بیٹھ گیا وہ اسے اٹھا سکتا ہے
۲؎ دوسری مجلسوں میں بھی۔خیال رہے کہ کسی کے گھر جا کر اس کی عزت کی جگہ نہ بیٹھو اگر تم بیٹھ گئے تو صاحبِ خانہ تمہیں وہاں سے اٹھاسکتا ہے کیونکہ یہ جگہ اس کی اپنی ہے اسی لیئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مِنْ مَقْعَدِہٖ فرمایا یعنی بیٹھے ہوئے کو اس کی اپنی جگہ سے نہ ہٹاؤ اور یہاں یہ جگہ اس کی تھی ہی نہیں۔