۱؎ اس طرح کہ وضو کے فرائض،سنتیں،مستحبات سب ادا کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں،سنت ہے۔جو صرف وضو ہی کرے وہ گنہگار نہیں۔امام مالک کے ہاں یہ غسل واجب ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۲؎ اس طرح کہ اگر دور ہو تو صرف خاموش رہے اور اگر امام سے قریب ہو کہ خطبہ کی آواز آرہی ہو تو کان لگا کر سنے۔
۳؎ یعنی خطبہ کے وقت صرف زبان سے خاموشی کافی نہیں بلکہ سکون و اطمینان سے بیٹھنا بھی ضروری ہے،کنکر پتھروں سے کھیلنا بھی ممنوع ہے۔اسی لیئے علماء فرماتے ہیں کہ خطبہ کے وقت دامن یا پنکھے سے ہوا کرنا بھی منع ہے اگرچہ گرمی ہو،اس وقت ہمہ تن خطبہ کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔