۱؎ یعنی پہلے بھی بڑے بڑے واقعات اس دن میں ہی ہوئے اور آئندہ نہایت اہم اورسنگین واقعہ وقوع قیامت کا اسی دن ہوگا اس لیئے یہ دن بڑی عظمت والا ہے۔خیال رہے کہ آدم علیہ السلام کا جنت میں جانابھی اﷲ کی رحمت تھی اور وہاں سے تشریف لانا بھی کیونکہ وہاں سیکھنے گئے تھے،یہاں سکھانے اور خلافت کرنے آئے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس دن میں دینی اہم واقعات ہوچکے ہوں وہ دن تاقیامت افضل ہوجاتا ہے اور اس دن میں خوشیاں منانا،عبادتیں کرنا بہتر ہوتا ہے،دیکھو ماہ رمضان و شب قدر اس لیئے افضل ہیں کہ ان میں قرآن شریف نازل ہوا۔مسلمان کاعقیدہ ہے کہ شب ولادت،شب معراج وغیرہ سب افضل راتیں ہیں۔ان میں عبادات کرنا،خوشیاں منانا بہتر ہے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔