۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں چار رکعت والی نمازوں میں قصر کیا اور دو رکعت والیوں میں اتمام یا بحالت سفرقصرکیا اورجہاں پندرہ روز قیام ہوا وہاں اتمام۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ سفر میں چار رکعت والی نمازوں میں کبھی قصر کرتے کبھی اتمام ورنہ یہ حدیث حضرت عائشہ کی اس روایت کے خلاف ہوگی جوبحوالہ مسلم،بخاری تیسری فصل میں آرہی ہے کہ سفر کی نماز پہلے فریضہ پر رکھی گئی۔
۲؎ نیز اسے شافعی اوربیہقی نے بھی روایت کیا مگر اسکی ساری اسنادوں میں ابراہیم ابن یحیی ہے جوسخت ضعیف ہے لہذا یہ حدیث قطعًا ضعیف ہے قابلِ حجت نہیں۔(لمعات و اشعۃ ومرقاۃ)