| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت مورق عجلی سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے عرض کیا کہ کیا آپ چاشت پڑھتے ہیں فرمایا نہیں میں نے عرض کیا عمر فاروق فرمایا نہیں میں نے عرض کیا اچھا ابوبکر صدیق فرمایا نہیں ۱؎میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا مجھے آپ کا خیال نہیں ۲؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہاں ہمیشگی کی نفی ہے یا مسجد میں ادا کرنے کی،ورنہ یہ حضرات چاشت پڑھتے تھے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ ۲؎ بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابن عمر نے نماز چاشت کو بدعت فرمایا وہاں اور مسجد میں لوگوں میں اعلان کرکے ادا کرنا مراد ہے اس نماز کا گھر میں ادا کرنا مستحب ہے اور ممکن ہے کہ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چاشت پڑھنے کی خبر نہ ہوئی ہو اپنے گمان پر اسے بدعت فرمادیا ہو۔حق یہ ہے کہ چاشت سنت ہے اور اس پرہمیشگی مستحب ہے۔(مرقاۃ)