۱؎ اشراق سے متصل چہارم دن گزرنے سے پہلے جیسا کہ اگلی عبارت سے معلوم ہورہا ہے۔
۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ چاشت کا وقت بھی طلوع آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور نصف النہار پرختم ہوتا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ چہارم دن گزرنے پر پڑھے،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ زید ابن ارقم نے افضل فرمایا،یہ نہ کہا کہ یہ نماز وقت سے پہلے پڑھ رہے ہیں،چونکہ اس زمانہ میں گھڑی نہ تھی اس لیے اوقات کا ذکر علامت سے ہوتا تھا آپ نے دوپہر کو اسی علامت سے بیان فرمایا کہ اونٹ کے بچے اون کی وجہ سے جب گرم ہوجائیں یعنی خوب دن چڑھ جائے وقت گرم ہوجائے،چونکہ اس وقت دل آرام کرنا چاہتا ہے اس لیے اسو قت نماز بہتر ہے۔