| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب پندھوریں شعبان کی رات ہو تو رات میں قیام کرو،دن میں روزہ رکھو ۱؎ کیونکہ اس رات میں اﷲ تعالٰی سورج ڈوبتے ہی آسمان دنیا کی طرف نزول رحمت فرماتا ہے کہتا ہے کہ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کہ کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اسے روزی دوں کیا کوئی بیمار ہے کہ میں اسے آرام دوں کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے طلوع فجر تک ۲؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ بہتر یہ ہے کہ ساری رات ہی جاگ کر عبادت کرے اور اگر نہ ہوسکے تو اول رات سوئے آخر رات میں تہجد پڑھے اور زیارت قبور کرے اور تین دن روزے رکھے۔تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کہ ایک نفلی روزہ رکھنا بہتر نہیں۔تمام افضل راتوں کے اعمال ہماری کتاب "اسلامی زندگی"میں دیکھو۔ ۲؎ یعنی اور راتوں کے آخری حصوں میں یہ کرم نوازی ہوتی ہے مگر اس رات شروع سے ہی۔مبارک ہیں وہ لوگ جو اس رات عبادتیں کرلیں اور بدنصیب ہیں وہ جو یہ رات آتشبازیوں اور سینماؤں میں گزاریں۔