| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبر پہنچی کہ ایک شخص نے حریت ابن عمر سے وتر کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ واجب ہیں تو حضرت عبداﷲ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے تو وہ شخص آپ پر بار بار یہ سوال کرنے لگا اور عبداﷲ یہی کہتے رہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور مسلمانوں نے وتر پڑھے ۱؎(مؤطا)
شرح
۱؎ سبحان اﷲ! کیسی احتیاط ہے کہ آپ نے وتر کے وجوب کا نہ اقرار کیا نہ انکار کیونکہ آپ نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے صحابہ کو وتر پڑھتے دیکھا مگر وجوب کی احادیث آپ تک نہ پہنچیں اس لیئے فرمایا میں اس سے بحث نہیں کرتا،پڑھوں گا۔ہمیشہ صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل پر بحث نہ کرو عمل کرو۔شعر عاشقانِ راچہ کار باتحقیق ہر کجا نام اوست قربانیم خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ یہ تھی کہ ہر عمل کو صراحۃً نہ فرماتے کہ یہ فرض ہے یہ واجب ہے یہ سنت ہے علما نے علا مات سے فرضیت وغیرہ ثابت کی تاکہ امت کے لیئے گنجائش رہے اور علماء کا اختلاف رحمت بنے۔