۱؎ وتر کے لغوی معنی ہیں طاق عدد جتخ یعنی شفع کا مقابل ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ"۔شریعت میں وتر خاص نماز کا نام ہے جو عشاء کے بعدمتصل یا تہجد کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔وتر میں علماء کے پانچ اختلاف ہیں:ایک یہ کہ وتر سنت ہیں یا واجب؟ہمارے ہاں واجب ہیں۔دوسرے یہ کہ وتر ایک رکعت ہے یا تین؟ہمارے ہاں تین رکعت۔تیسرے یہ کہ اگر تین رکعت ہے تو دو سلام سے یا ایک سلام سے؟ہمارے ہاں ایک سلام سے ہے۔چوتھے یہ کہ وتر میں دعائے قنوت ہمیشہ پڑھی جائے گی یا صرف رمضان کے آخری پندرہ دن میں؟ہمارے ہاں ہمیشہ پڑھی جائے گی۔خیال رہے کہ اس باب میں وتر کبھی صرف اس ایک رکعت کو کہا جائے گا جو وتر کے آخر میں ہوتی ہے،کبھی پوری تین رکعتوں،کبھی پوری تہجد کو، جہاں ارشاد ہوگا کہ وتر سات یا نو یا گیارہ رکعتیں پڑھیں وہاں پوری تہجد مراد ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں وتر کی پوری بحث ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ دوم میں مطالعہ فرماؤ۔یہاں بھی احادیث کی شرح میں کچھ عرض کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!