روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو بیٹھ کر نماز پڑھتے پایا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ کے سر پر رکھا فرمایا اے عبداللہ ابن عمر کیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے فرمایا مرد کی نماز بیٹھ کر آدھی نماز ہے ۱؎ اور آ پ خود بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں فرمایا ہاں لیکن میں تم میں سےکسی کی طرح نہیں ہوں ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس ساری حدیث میں نماز سے مراد نماز نفل ہے مرد کا ذکر اتفاقًا ہے ورنہ عورت کا بھی حکم یہی ہے۔خیال رہے کہ یہاں حضرت عبداﷲ کسی مجبوری سے سامنے حاضر نہ ہوسکے اور کچھ عرض نہ کرسکے اس لیئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیئے یہ عمل کیا لہذا یہ بے ادبی میں شمار نہیں یا یہ حضرت اس وقت آداب بارگاہ سے پورے واقف نہ تھے جیسے کہ بعض ناواقفوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی داٖڑھی مبارک پر ہاتھ رکھ دیا ایسے ناواقفوں کی بے ادبی معاف ہوتی ہے۔ موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان در دانا دیگر اند ۲؎ یعنی ثواب کی کانٹ پھانٹ تمہارے لیئے ہے ہم کو بیٹھ کر نفل پڑھنے میں وہ ثواب ملتا ہے جو تمہیں کھڑے ہو کر پڑھنے میں نہیں ملتا یا یہ معنی ہیں کہ ہمیں جتنا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے میں ملتا ہے اتنا ہی بیٹھ کر یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے "قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ" وہاں ظاہر کا ذکر ہے یہاں حقیقت کا یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری چہرے مہرے میں شکل انسانی میں ہیں اور حقیقت و مراتب میں فرشتے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اس آیت کو آڑ بنا کر اپنے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل اور حضور کو اپنی مثل سمجھتے ہیں(صلی اللہ علیہ وسلم)جب یہ لوگ ایمان کی وجہ سے ابوجہل کی مثل نہیں ہوسکتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے ہوتے ہوئے ہماری مثل کیسے ہوسکتے ہیں۔