| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ ان کے والد عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ رات میں جس قدر رب چاہتا نماز پڑھتے رہتے تھے حتی کہ جب آخری رات ہوتی تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیئے جگاتے ۱؎ اور ان سے فرماتے نماز پھر یہ آیت تلاوت فرماتے کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اس پر قائم رہو ہم تم سے رزق نہیں مانگتے ہم تمہیں روزی دیں گے۲؎ انجام پرہیزگاری کا ہے۔(مالک)
شرح
۱؎ یعنی خود تو تہائی رات سے ہی نماز شروع کردیتے ہیں مگر بال بچے کو چھٹے حصے میں جگاتے۔اس سے معلوم ہوا کہ گھر کے بڑے کو بہت نیک ہونا چاہیے تاکہ چھوٹے بھی نیک بنیں پیر عالم اور بادشاہ و آفیسران اگر نیک ہوں تو ان کے ماتحت شاگردو عوام و مرید بھی نیک ہوجائیں گے۔ ۲؎ یعنی نماز خصوصًا تہجد کی برکت سے روزی میں برکت ہوتی ہے۔بعض صالحین کو جب کبھی فقروفاقہ پہنچتا تو گھر والوں سے کہتے نوافل شروع کرو اﷲ رسول نے یہی حکم دیا ہے پھر یہ آیت پڑھتے۔(مرقاۃ)