روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداﷲ فلاں کی طرح نہ ہوناجو رات کو اٹھتا تھا پھر رات کا اٹھنا چھوڑ دیا ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بلاعذر محض سستی کی وجہ سے۔اس سے معلوم ہوا کہ تہجد گزار کو تہجد چھوڑنا بہت برا ہے۔اشعہ اللمعات میں ہے کہ عبداﷲ ابن عمرو تمام رات عبادت کرتے تھے ان کے والد اس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے۔چنانچہ ان کے والد نے بارگاہ رسالت میں ان کی شکایت کی تب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔مقصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نبھ نہ سکے گی اور تم اصل تہجد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔شیخ ابن حجر فرماتے ہیں کہ بہت تلاش کے باوجود ان صاحب کا نام نہ ملا جو یہ قیام چھوڑ بیٹھے تھے۔