۱؎ یہ امر وجوب کے لیئے نہیں بلکہ تاکید کے لیئے ہے تہجد واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے وہ بھی علی الکفایہ۔
۲؎ یعنی گزشتہ انبیاء و اولیاء کا طریقہ ہے لہذا یہ فطرت ہے۔معلوم ہوا کہ سارے انبیاء و اولیاء نے تہجد پڑھی اور خاص دعائیں اس وقت مانگیں،دیکھو یعقوب علیہ السلام نے اپنے فرزندوں سے کہا کہ ابھی نہیں بلکہ اور وقت تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا یعنی تہجد پڑھ کر۔اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ جو تہجد نہ پڑھے وہ کامل صالح نہیں۔خیال رہے کہ ہم کیا اور ہماری تہجد کیا ہاں اس میں اچھوں کی نقل ہے اﷲ تعالٰی اس اصل کی طفیل نقل کو بھی قبول کرلیتا ہے۔جو صاحب تہجد پڑھیں انہیں فقیر کی وصیت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پڑھا کریں وہاں سے بہت ملے گا۔
۳؎ اس پر تجربہ بھی گواہ ہے کہ تہجد کی برکت سے گناہوں کی عادت چھوٹ جاتی ہے حضور سچے ان کی ہر بات سچی صلی اللہ علیہ وسلم۔