۱؎ یعنی اس رات غافلوں کے لیئے فتنے اتررہے ہیں اور عابدوں کے لیئے اﷲ کی رحمتیں۔مرقاۃ نے فرمایا کہ فتنوں سے مراد صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمائیں اور ہوسکتا ہے کہ قیامت تک جو فتنے اور رحمتیں دنیا میں آئیں گی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آج ہی اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمالیں جیسے ہم خواب یا خیال میں آیندہ واقعات دیکھ لیتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہمارے خواب و خیال سے زیادہ تیز ہے۔
۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات اتنی آواز سے فرمائے کہ ازواج مطہرات نے بھی سن لیئے اور تمام تہجد کے لیئے اٹھ بیٹھیں آپ کا فرمانا کہ کون اٹھائے احسن طریقے سے اٹھانے ہی کے لیئے تھا۔
۳؎ یعنی جسم کا لباس کپڑا ہے روح کا لباس اعمال بہت سی مالدار اور عیاش عورتیں جو یہاں لباس فاخرہ پہنتی تھیں وہ قیامت میں اعمال سے خالی ہوں گی لہذا اے بیبیوں وہاں کے لباس کی تیاری کرو۔