۱؎ یعنی باوضو سوئے اور اﷲ کا ذکر آیتہ الکرسی وغیرہ پڑھ کر سوئے،بعض صوفیاء سوتے وقت پاس انفاس کرتے ہیں اور اسی حالت میں سوجاتے ہیں اس طرح کہ لَا اِلٰہ پر سانس کھینچتے ہیں اور اِلَّا اﷲ پر نکالتے ہیں یا صَلَّے اﷲُ عَلَیْكَ سے سانس کھینچتے ہیں اور یَارَسُولَ اﷲ پر سانس باہر نکالتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اگر آخر ی نیند یعنی موت پر یہ عمل نصیب ہوجائے تو زہے نصیب۔مرقات نے فرمایا کہ اس وقت تیمم ہی کرکے سوجائے یا طہارت سے مراد دل کا حسد اور کینہ وغیرہ سے پاک ہونا ہے۔
۲؎ اور ایسا شخص تمام رات کا عابد مانا جاتا ہے۔