| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو رات میں جاگے تو کہے کہ اﷲ اکیلے کے سوا کوائی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں اسی کا ملک ہے اور اسی کی حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۱؎ پاک ہے اﷲ،اﷲ کی حمد ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں،اﷲ بڑا ہے اﷲ کے بغیر طاقت و قوت نہیں،پھر کہے اے رب مجھے بخش دے یا فرمایا کہ پھر دعا مانگے تو اس کی قبول ہوگی ۲؎ پھر اگر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہوگی ۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ یہ دعا تہجد کے لیئے اٹھتے ہی پڑھنی چاہیئے۔تَعَارَّ عرار سے بنا،بمعنی ہلکی آواز،چونکہ مسلمان جاگتے ہی کچھ ذکر الٰہی کرتا ہے اس لیئے یہاں یہ لفظ جاگنے کے معنی میں استعمال ہوا۔ملک اور ملکوت کا فرق بار ہا بیان کیا جاچکا ہے،حقیقی ملک اﷲ کا ہے مجازًا بندوں کا بھی مگر ملکوت خدا کے سوا کسی کا نہیں۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا دعا کے آداب میں سے یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد کرے پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہے پھر دعا مانگے،ان شاءاﷲ بالضرور قبول ہوگی خصوصًا تہجد کے وقت کی دعا کہ وہ تیر بہدف ہے،حضرت شیخ نے فرمایا کہ اس دعا کا نام دعائے درھم الکیس ہے یعنی تھیلی کی نقدی۔ ۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آخر رات میں جاگ کر تہجد نہ بھی پڑھے مگر یہ دعا مانگ لے تو ان شاءاﷲ تعالٰی فائدے میں رہے گا،معذور لوگ جو نماز نہیں پڑھ سکتے وہ دعا ضرورپڑھ لیا کریں۔