۱؎ آپ کا نام مکحول ابن عبداﷲ ہے،کنیت ابو عبداﷲ،شامی ہیں،حضرت لیث کے غلام،امام اوزاعی کے استاذ،تابعی ہیں،بہت صحابہ سے ملاقات کی ۱۱۸ھ میں وفات ہوئی۔(اکمال)آپ کی احادیث مرسل زیادہ ہیں۔
۲؎ اگر ان دو چار رکعتوں سے مغرب کے بعد کی سنتیں ونفل مراد ہیں تو مغرب سے مراد فرض مغرب ہوں گے اوراگر ان سے نماز اوّابین مرادہے تو مغرب سے پوری نمازمغرب مراد ہوگی۔
۳؎ یہاں کلام سے مراد دنیاوی بات چیت ہے نہ کہ دعا و ذکر وغیرہ۔علیین ساتویں آسمان سے اوپر ایک مقام ہے یا خود ساتویں آسمان کا نام ہے یا فرشتوں کے رجسٹرو دفتر کا نام ہے جس میں مقبولوں کے مقبول اعمال لکھے جاتے ہیں یا اس سے مراد رب تعالٰی کی بارگاہ کا قرب ہے۔مطلب یہ ہے کہ مغرب کے بعد بغیر دنیاوی بات چیت کیئے یہ نوافل پڑھ لینا بہت افضل ہیں ان کی برکت سے یہ پوری نماز علیین تک پہنچائی جاتی ہے۔بعض لوگ اس حدیث کی وجہ سے نماز مغرب کے بعد دعا نہیں مانگتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ دعا بھی کلام ہے مگر یہ غلط ہے ایسی جگہ کلام سے مراد دنیا وی بات چیت ہوتی ہے۔