| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت کعب ابن عجرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی عبدالاشہل کی مسجد میں تشریف لے گئے ۱؎ تو وہاں مغرب پڑھی جب لوگ اپنی نماز پڑھ چکے تو حضور نے انہیں اس کے بعد نفل پڑھتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ گھروں کی نماز ہے ۲؎(ابوداؤد)ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے کہ کچھ لوگ نفل پڑھنے کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نماز گھروں میں پڑھنی چاہیئے۳؎
شرح
۱؎ یہ انصار کا ایک قبیلہ ہے ان کی مسجد اب تک مدینہ طیبہ میں مشہور ہے۔ ۲؎ اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ سارے نوافل اور سنتیں گھر میں پڑھنا افضل،سنت مغرب کہ اس کا گھر میں پڑھنا بہت ہی افضل ۔خیال رہے کہ یہ اس کے لیئے ہے جو گھر آکر پڑھ سکے لہذا مسافر اور معتکف اس حکم سے خارج ہیں اسی طرح جسے یہ اندیشہ ہو کہ گھر میں بچوں کی چیخ و پکار کی وجہ سے نمازمیں حضور نہ ہوگا وہ مسجد ہی میں پڑھے۔(اشعۃ اللمعات) ۳؎ یہ ترجمہ نہایت موزوں ہے،بعض شارحین نے علیکم کو وجوب کے لیئے لیا اور فرمایا کہ سنت مغرب گھر میں پڑھنا واجب مسجد میں پڑھنا منع ہے مگر یہ درست نہیں جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔