| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں ایک صاحب آئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے تو حضور نے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو ان پر احسان کرے کہ ان کے ساتھ نماز پڑھے ایک صاحب کھڑے ہوئے ان کے ساتھ نماز پڑھ لی ۱؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ کھڑے ہونے والے صاحب ابوبکر صدیق تھے جیساکہ بیہقی شریف میں ہے اور یہ وقت فجر عصر و مغرب کے علاوہ ہوگا وہ صاحب امام بنے ابوبکر صدیق مقتدی ان کے فرض ادا ہوئے صدیق اکبر کے نفل۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ جماعت ثانیہ جائز ہے،بازار کی مسجد میں تو ہر طرح،محلے کی مسجد میں جہاں امام و مقتدی مقرر ہوں وہاں پہلے امام کی جگہ سے ہٹ کر۔دوسرے یہ کہ دو شخصوں کی جماعت سے بھی ثواب جماعت مل جاتا ہے۔تیسرے یہ کہ اگر فرض والے کے ساتھ ایک نفل والا بھی شریک ہوجائے تب بھی جماعت کا ثواب مل جائے گا۔