روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے امام کے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھی جس کی نماز حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہلکی اور زیادہ پوری ہو ۱؎ آپ بچے کے ر ونے کی آواز سنتے تو ہلکی کردیتے اس خوف سے کہ اس کی ماں گھبرا جائے گی ۲؎(مسلم،بخاری)
۱؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کی نماز دراز نہ ہوتی تھی اس کے باوجود کوئی مستحب تک نہیں چھوٹتا تھا ۔خیال رہے کہ ہلکی نماز سے یہ مراد نہیں کہ سنتیں چھوڑ دیں یا اچھی طرح ادا نہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان دراز نہ کرے بقدر کفایت ادا کرے جیسے رکوع سجدے کی تسبیحیں تین بار کہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کتنی ہی لمبی قرأت کرتے مگر مقتدیوں کو ہلکی ہی معلوم ہوتی تھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔
۲؎ چونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عورتیں بھی نماز پڑھتی تھیں جو اپنے بچوں کو گھر سلاکر آتی تھیں،جب گھروں سے ان کے رونے کی آواز آتی تو سرکار ان کی ماؤں کے خیال سے نماز ہلکی کرتے۔