روایت ہے حضرت عمرو بن سلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گھاٹ پر رہتے تھے ہم پر قافلے گزرتے تھے ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کے کیا حال ہیں اور ان صاحب کا کیا حال ہے ۲؎ وہ کہتے وہ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے انہیں رسول بنایا انہیں فلاں فلاں وحی کی میں اس وحی کو یاد کرتا رہتا تھا گویا وہ میرے سینے میں پیوست ہوجاتی تھی۳؎ اہلِ عرب اسلام قبول کرنے میں فتح مکہ کے منتظر تھے کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے ساتھ چھوڑ دو اگر وہ ان پر غالب آجائیں تو سچے نبی ہیں ۴؎ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوگیا تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی میرے والد اپنی قوم کی طرف سے اسلام لانے جلدی پہنچے۵؎ جب آئے تو بولے خدا کی قسم میں سچے نبی کی طرف سے آرہا ہوں فرمایا کہ فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھا کرو جب وقت نماز آئے تو تمہارا کوئی اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن زیادہ یا د ہو ۶؎ انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن دان کوئی نہ تھا کیونکہ میں قافلوں سے یاد کرتا رہتا تھا انہوں نے مجھے ہی آگے کردیا حالانکہ میں چھ یا سات سال کا تھا۷؎ مجھ پر ایک چادر تھی کہ جب میں سجدہ کرتا تو چڑھ جاتی(کھل جاتی)قبیلہ کی ایک عورت بولی کہ اپنے قاری کے چوتڑ کیوں نہیں ڈھتےد تب انہوں نے میرے لیئے قمیص خرید کر کٹوائی مجھے جتنی خوشی اس قمیص سے ہوئی اتنی کسی سے نہ ہوئی تھی۸؎(بخاری)
شرح
روایت ہے حضرت عمرو بن سلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ گھاٹ پر رہتے تھے ہم پر قافلے گزرتے تھے ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کے کیا حال ہیں اور ان صاحب کا کیا حال ہے ۲؎ وہ کہتے وہ فرماتے ہیں کہ اﷲ نے انہیں رسول بنایا انہیں فلاں فلاں وحی کی میں اس وحی کو یاد کرتا رہتا تھا گویا وہ میرے سینے میں پیوست ہوجاتی تھی۳؎ اہلِ عرب اسلام قبول کرنے میں فتح مکہ کے منتظر تھے کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے ساتھ چھوڑ دو اگر وہ ان پر غالب آجائیں تو سچے نبی ہیں ۴؎ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوگیا تو ہر قوم اسلام لانے میں جلدی کرنے لگی میرے والد اپنی قوم کی طرف سے اسلام لانے جلدی پہنچے۵؎ جب آئے تو بولے خدا کی قسم میں سچے نبی کی طرف سے آرہا ہوں فرمایا کہ فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھا کرو جب وقت نماز آئے تو تمہارا کوئی اذان دے اور امامت وہ کرے جسے قرآن زیادہ یا د ہو ۶؎ انہوں نے دیکھا تو مجھ سے زیادہ قرآن دان کوئی نہ تھا کیونکہ میں قافلوں سے یاد کرتا رہتا تھا انہوں نے مجھے ہی آگے کردیا حالانکہ میں چھ یا سات سال کا تھا۷؎ مجھ پر ایک چادر تھی کہ جب میں سجدہ کرتا تو چڑھ جاتی(کھل جاتی)قبیلہ کی ایک عورت بولی کہ اپنے قاری کے چوتڑ کیوں نہیں ڈھتےد تب انہوں نے میرے لیئے قمیص خرید کر کٹوائی مجھے جتنی خوشی اس قمیص سے ہوئی اتنی کسی سے نہ ہوئی تھی۸؎(بخاری)