۱؎ یعنی نماز قضا کردینے یا بلاوجہ جماعت چھوڑ دینے کا عادی ہوگیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ جماعت واجب ہے اس کے چھوڑنے کی عادت فسق ہے۔
۲؎ مُحَرَّرَۃً رَقَبَۃًپوشیدہ کی صفت ہے،۔آزاد کو غلام بنانے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلمًا آزاد کو پکڑ کر غلام بنالیا جائے جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کے ساتھ کیا۔دوسرے یہ کہ اپنے غلام کو خفیہ طور پر آزاد کرکے پھر غلام بنالیا جائے۔غلام ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکے،ایسے ظالم کی نماز کیسے قبول ہوسکتی ہے۔چونکہ عرب میں اسلام سے پہلے اس قسم کی حرکتیں عام ہوتی تھیں اس لیے یہ وعید ارشاد فرمائی گئی۔