| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے جب تین آدمی ہوں تو ان میں ایک امام بن جائے ان میں امامت کا زیادہ حقدار قاری ہے ۱؎(مسلم)اور مالک ابن حویرث کی حدیث فضل اذان کے بعد والے باب میں بیان ہوگی۲؎
شرح
۱؎ یعنی اگرچہ قاری عالم کا امام بننا افضل ہے لیکن اگر ان کے سوا کوئی اور بھی امام بن گیا تو نماز ہوجائے گی۔اس سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول کا امام بننا جائز ہے۔اس جگہ مرقاۃ نے فرمایا کہ اگرچہ مفضول امام بن جائے مگر افضل پیچھے رہ کر بھی اس سے افضل ہے،دیکھو بلال جنت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے آگے جائیں گے مگر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہو کر۔ ۲؎ اس میں یہ ذکر تھا کہ تم میں اذان کوئی کہہ دے مگر امامت بہتر آدمی کرے،وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی میں نے وہاں بیان کی۔