۱؎ بات یہ تھی کہ آپ کو رکعت جاتے رہنے کا خطرہ تھا اس لیے صف میں پہنچنے سے پہلے ہی تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع کردیا،پھر رکوع میں ہی یا قومہ میں ایک دو قدم سے صف تک پہنچے، اور اگر تین قدم سے پہنچے تو وہ قدم لگاتار نہ تھے ورنہ آپ کی نماز نہ ہوتی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔
۲؎ یعنی تمہارا یہ عمل رکعت اول پانے کی حرص پر ہے یہ حرص دینی ہے جو محمود ہے،خدا اسے بڑھائے ،دنیوی حرص بری رب فرماتا ہے،حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ۔ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہونا نماز کو فاسد نہیں کرتا کیونکہ آپ نے رکوع صف کے پیچھے اکیلے ہی کیا تھا مگر حضور نے آپ کو نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔دوسرے یہ کہ صف میں ملنے سے پہلے تکبیر تحریمہ اور رکوع کردینا مکروہ تنزیہی ہے تحریمی نہیں ور نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو نماز لوٹانے کا حکم دیتے۔ تیسرے یہ کہ نماز میں جانب قبلہ ایک دو قدم چلنا یا تین قدم بغیر لگاتار کیئے ڈالنا نماز فاسد نہیں کرتا۔