| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ انہوں نے ایک ٹھنڈی اور ہوا والی رات میں نماز کی اذان کہی پھر فرمایا کہ گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ٹھنڈی اور بارش والی رات ہوتی تو مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ یوں کہے کہ نماز گھروں میں پڑھ لو ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ لفظ اذان کے بعد کہلوایا جاتا تھا نہ کہ دوران اذان اور یہ امر اباحت کا ہے یعنی گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے بارش کی رات میں گھر میں نماز پڑھ سکتے ہو اجازت ہے مگر مسجد کی حاضری اور جماعت کی شرکت بہت ثواب کا باعث، اسی لیے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اور مؤذن اور جلیل القدر صحابہ خود تو مسجد میں آجاتے تھے اور اعلان یہ کراتے تھے۔ عزیمت پر عمل ہے اور رخصت کا اعلان۔