۱؎ یہ حدیث محدثین کے نزدیک سخت ضعیف ہے حتی کہ ابن حجر جو شافعی مذہب ہیں وہ بھی فرماتے ہیں وَفِی سَنَدِہٖ مَقَالٌ دیکھو مرقاۃ واشعۃ اللمعات وغیرہ،چنانچہ اس کی اسناد یہ ہے کہ عن ابراھیم عن اسحاق ابن عبداﷲ عن سعید المقبری عن ابی ھریرۃ،یہ ابراہیم ابن محمد ابن یحیی اسلمی ہیں اور یہ محدثین کے نزدیک صحیح نہیں۔(مرقاۃ)اور دوپہر کے وقت مطلقًانماز ممنوع ہونے کی حدیثیں نہایت صحیح ہیں جو پہلے گزرگئیں،لہذا دوپہر کے وقت نہ جمعہ کے دن نماز جائز نہ اور دن یہی مذہب احناف کا ہے،امام شافعی کے ہاں جمعہ کے دن دوپہری میں نماز جائز ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے۔