| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم |
روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر قرآن پڑھتے جب سجدے کی آیت پر گزرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے ۱؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں خارج نماز کا ذکر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت قاری اور سامع دونوں پر واجب ہے اور اس سجدہ میں صرف ایک تکبیر کہے ہاتھ اٹھانے یا بعد سجدہ سلام پھیرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں مستحب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر سجدہ میں جائے اور پھر کھڑا ہوجائے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاسے مروی ہے کیونکہ اس سجدہ میں باشارہ قرآنی ضرور گرنا چاہیئے اور گرنا کھڑے ہو کر کامل ہے۱۲