۱؎ یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں قرآن کریم میں پندرہ سجدے ہیں کیونکہ وہ سورۂ ص میں بھی سجدہ مانتے ہیں اور سورۂ حج میں دو سجدے۔جمہور علماء کے نزدیک چودہ سجدے ہیں مگر امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک ص میں سجدہ ہے تو حج میں صرف ایک سجدہ،اور شوافع کے نزدیک حج میں دو سجدے ہیں تو ص میں سجدہ نہیں،یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے ضعیف ہے کہ اس میں ایک راوی عبداﷲ ابن منین ہیں جو ضعیف ہیں۔شیخ عبدالحق محدث نے فرمایا کہ ابن منین قابلِ اعتبار نہیں،ابن قطان نے کہا کہ وہ مجہول ہیں،بہرحال یہ حدیث لائق عمل نہیں۱۲