روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز پڑھائی کچھ بھول ہوگئی ۱؎ تو دو سجدے کیے پھر التحیات پڑھی پھر سلام پھیرا ا ؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی بھول سے نماز کا کوئی واجب رہ گیا کیونکہ ہر بھول پر سجدۂ سہو نہیں ہوتا۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ سجدۂ سہو کے بعد التحیات ہے گزشتہ حدیث میں التحیات کی نفی نہ تھی اور اگر ہوتی بھی تو اس کے مقابل یہ حدیث قابل قبول ہوتی کیونکہ نفی پر ثبوت مقدم ہے۔