۱؎ یعنی آپ نماز کے قعدہ میں تین کام کرتے تھے:رانوں پر ہاتھ رکھنا اس طرح کہ انگلیوں کے کنارے گھٹنوں تک پہنچ جائیں،کلمہ شہادت کے وقت داہنے ہاتھ کی کلمے کی انگلی سے اشارہ رکرنا، اشارے کے وقت نگاہ انگلی پر رکھنا اس کی توجہیں پہلے ہو چکی ہیں۔
۲؎ یعنی جیسے نیزہ بھالا لگنے سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے اس سے زیادہ تکلیف شیطان کو اس اشارے سے ہوتی ہے اس کی برکت سے شیطان اسے بہکانے سے مایوس ہوجاتا ہے۔خیال رہے کہ بعض حنفی بزرگوں نے اس اشارے کا انکار کیا ہے جیسے حضرت مجدد صاحب قدس سرہ مگر ان کے انکار کی وجہ صرف یہ ہوسکتی ہے کہ ان کو ان احادیث کی صحت نہ پہنچی ہو۔حق یہ ہے کہ اشارہ سنت ہے اور ان بزرگوں پر کوئی اعتراض نہ کیا جائے۔