Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد دوم
121 - 993
حدیث نمبر121
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا پھرتا ہے ۱؎ اورکہتاہے ہائے افسوس انسان کو سجدے کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کے لیے تو جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا میں انکاری ہوگیا میرے لیے آگ ہے ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی انسان کے لیے سجدۂ تلاوت کو دیکھ کر شیطان حسرت کرتا ہوا وہاں سے بھاگتا ہے،چونکہ یہ سجدہ سجدۂ نماز کے علاوہ ہے اور شیطان نے جس سجدہ کا انکار کیا تھا وہ بھی سجدۂ نماز کے علاوہ تھا اس لیے اسے یہ سجدہ دیکھ کر حسرت ہوتی ہے نہ کہ سجدۂ نماز دیکھ کر کیونکہ نماز کے سجدے تو خودبھی کرتا رہا ہے۔

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے جیساکہ حنفیوں کا مذہب ہے اگرچہ وہ سجدہ آدم علیہ السلام کو تھا(سجدۂ تعظیمی)اور یہ سجدہ اﷲ کو ہے(سجدۂ عبادت)مگر چونکہ اس سجدہ کا حکم بھی الٰہی تھا اور اس سجدے کا بھی اس لیے شیطان یہ کہتا ہے۔اس سجدۂ تعظیمی کی بحث ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد اول میں دیکھو۔معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اپنی حرکت پر پچھتاتا تو رہا ہے مگر اب کیا ہوتا وقت نکل چکا۔
Flag Counter