روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا تو آپ کو چٹائی پرنماز پڑھتے دیکھا کہ اسی پر سجدہ کرتے تھے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگرزمین اورنمازی کے درمیان کوئی چیزحائل ہوتونمازدرست ہے۔فقہاءفرماتے ہیں کہ چٹائی اورجوچیززمین سے اُگی ہو اس پرنمازافضل ہے کیونکہ اس میں اظہارعجز ہے اور امام مالک کی مخالفت سے بچنا کہ ان کے ہاں جنس زمین کے سواکسی چیز پر سجدہ مکروہ ہے۔ ۲؎ یا بیان جواز کے لئے یا اس وقت دوسرا کپڑا تھا نہیں،ورنہ سنت یہ ہے کہ تین کپڑوں میں نماز پڑھے،کرتا،پائجامہ۔عمامہ لپیٹنے کی صورت یہ ہے کہ چادر کا داہنا کنارہ بائیں کندھے پرہو اور بایاں دائیں پر۔